یو۔کے نیوز

کتاب تہذیب و تمدن روایت و ثقافت اور تا ریخ کی عکاس ہو تی ہے ،صابر حسین صابر

کتاب تہذیب و تمدن روایت و ثقافت اور تا ریخ کی عکاس ہو تی ہے ،صابر حسین صابر
سمیط سدوزئی درحقیقت بر صغیر اور تحریک آزادی کشمیر کے لیے لازوال قربانیا ں پیش کرنے والے قبائل کے شہداء کی یا د تا زہ کرتی ہے
دور جد ید میں تا ریخ کو زندہ رکھنے اور مستند طور پر آگے جوا ں سال نسل میں منتقل کرنے کے لیے لا معروضیت سے بالا تر دلائل کی ضرورت
سمیط سد وزئی کے لیے 116 لائبریریوں سے 4 ہزار کتابوں کے 350 ریفرنس استعمال کیے گئے جن پر 5 لاکھ ڈالر اخراجات آئے
تمام تر نسلی تعصبات سے بالا تر ہو کر سدوزئی قبیلے کے تعارف کے حوالہ سے اغلاط اختلافات اور اعتراضات کا ازالہ کیا گیا ہے،مصنف

نو ٹنگھم ( ایس ایم عرفان طا ہر سے ) کتاب تہذیب و تمدن روایت و ثقافت اور تا ریخ کی عکاس ہو تی ہے ، سمیط سدوزئی درحقیقت برصغیرپاک و ہند اورتحریک آزادی کشمیر کے لیے لازوال قربانیا ں پیش کرنے والے قبائل کے شہداء کی یا د تا زہ کرتی ہے ، دور جد ید میں تا ریخ کو زندہ رکھنے اور مستند طور پر آگے جوا ں سال نسل میں منتقل کرنے کے لییلا معروضیت سے بالا تر دلائل کی ضرورت ہے ۔سمیط سد وزئی کے لیے 116 لائبریریوں سے 4 ہزار کتابوں کے 350 ریفرنس استعمال کیے گئے جن پر 5 لاکھ ڈالر اخراجات آئے ۔تمام تر نسلی تعصبات سے بالا تر ہو کر سدوزئی قبیلے کے تعارف کے حوالہ سے اغلاط اختلافات اور اعتراضات کا ازالہ کیا گیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہا ر امریکہ سے تشریف لا ئے ہو ئے شاعر آف دی ورلڈ اعزاز کے حامل شاعر ادیب و تا ریخ دان صابر حسین صابر نے یہا ں مقامی ہال میں اپنی نایاب اور منفر دکتاب ،،سمیط سدوزئی،، کی تقریب رونما ئی کے موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہو ئے کیا ۔ تقریب کی میزبانی کے فرائض سردار طا ہر سعید نے سرانجام دیے جبکہ صدارت صدر جمو ں و کشمیر پیپلز پارٹی برطانیہ ڈاکٹر شوکت خان نے کی ۔ اس موقع پر لا رڈ میئر آف نو ٹنگھم کونسلرمحمد صغیر راجپو ت ،سنیئر کشمیری رہنما الطا ف عبا سی ، محمد نعیم شربت آل جمو ں کشمیر مسلم کانفرنس، مولانا طا ر ق مسعودجمعیت علماء اسلام آزادکشمیر، جا وید عبا سی کاروباری شخصیت، خواجہ کبیر احمد، سید شوکت شاہ، قاری محمد ممتاز، سردار یا سر، سردار دانیال ، عرفان کا مریڈرہنماعوامی نیشنل پارٹی برطانیہ، محب رسول ایڈووکیٹ ، راجہ محمد فضل، سردار امجد یوسف صدر یو کے پی این پی یورپ، سردار طا رق خان آرگنا ئزر یو کے پی این پی برطانیہ، ضیاء احمدجے کے ایل ایف، محمد جا وید خان یوسفزئی، وحید شیخ، پروفیسر محمد افتخار، مبشر آزاد، آصف شریف، اکمل خان، سردار ندیم خان، محمد طا رق ، عابد خان، محمد عاصم خان، سردار نوید، سردار نزاکت، محمد اشفاق اور دیگر نے خصوصی شرکت کی ۔ صابر حسین صابر کا کہنا تھا کہ بعض مور خین نے سدوزئی تا ریخ کے حوالہ سے غلط لکھا تھا جس کی درستگی کے لیے کتاب ،،سمیط سدوزئی،، منظر عام پر لائی گئی ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ بلاشبہ ایک شاعر مورخ اور ادیب تمام تر تعصبات سے بالا تر ایک خطے کے بسنے والو ں کی ترجما نی کرتا ہے لیکن حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ اپنا ترکہ اور اپنا نسب بھی پہچان اور شنا خت کے لیے ضروری ہے ۔ قرآن پاک کے 29 ویں پا رے میں اللہ رب العزت نے قلم کی قسم کھائی ہے اس کی حرمت و تعظیم کو قائم رکھنا ایک لکھاری اور اہل علم و قلم کا اولین فریضہ ہے ۔ انہو ں نے کہا برصغیر میں انگریزی سامراج اور پھر تحریک آزادی کشمیر کے لیے اپنی کھالیں کھنچوانے والے ان 28 شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنا اس خطے سے تعلق رکھنے والے ہر باشعور فر د کا اخلاقی و فطری فریضہ ہے۔ انہو ں نے کہاکہ،، سمیط سدوزئی،، میں پو ری دنیا سے چھان بین کرکے سدوزئی قبیلے کی تا ریخ جمع کی گئی ہے تا کہ آنے والی نسل کو حقیقی تواریخ اور اسلاف کی خدما ت سے روشناس کروایا جا سکے ۔ آج بعض مورخین نے تا ریک کو توڑ موڑ کر پیش کرکے مسخ کردیا ہے جس کے لیے ضروری ہے کہ ایک دلیل اور مستند راستہ اختیا ر کرتے ہو ئے اپنے بچوں کو حقیقت کا شعور و ادراک تقسیم کیا جا سکے ۔ اس موقع پر دیگر مقررین کا کہنا تھا کہ ایک ادیب اور شاعر جب عرق ریزی کے بعد ایک مستند اور ٹھوس چیز قوم تک پہنچاتا ہے تو ہما ری یہ قومی ذمہ داری ہے کہ اسے سینہ با سینہ پھیلا نے اور دوسروں تک پہنچانے کے لیے موئثر اقداما ت اٹھا ئے جائیں ۔ انہو ں نے کہاکہ کتا ب سے دشمنی کے باعث آج ہمارا معاشرے لٹریچر اور اپنی تا ریخ سے خاصا دور ہوتا جا رہا ہے جس کی وجوہا ت مفروضوں قیا فو ں اور قیا س آرائیو ں کی صورت میں سامنے آرہی ہیں ۔ اس حوالہ سے صابر حسین صابر کی ملک و قوم کے لیے ایک بہت بڑی کاوش ،،سمیط سدوزئی،، کا تعارف ہے جس کو زیادہ سے زیادہ عام کیا جا ئے ۔ تاکہ جو لو گ اپنی تا ریخ اور حقائق سے نا بلد ہیں وہ بھی استفادہ کرسکیں ۔ کتاب انسان کی فکر سوچ احساسات و جذبا ت اور نظریا ت کی عکاسی کرتی ہے ۔ کتاب لکھنے والا اپنی تحریراور تصنیف کی بدولت مرنے کے بعد بھی ہمیشہ کتاب کی صورت میں زندہ و جا وید رہتا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Close
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker